Wellness Blog

حمل کی علامات – 20 ابتدائی نشانیاں جو ہر عورت کو جاننی چاہئیں | hamal-ki-alamat

حمل کی علامات

حمل کی علامات – 20 ابتدائی نشانیاں جو ہر عورت کو جاننی چاہئیں

حمل کی علامات کیا ہوتی ہیں؟

جب ایک عورت حاملہ ہوتی ہے تو اس کے جسم میں بے شمار ہارمونل اور جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں جو مختلف علامات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ علامات ہر عورت میں مختلف ہو سکتی ہیں — کچھ خواتین کو بہت واضح علامات ہوتی ہیں جبکہ کچھ کو بالکل کم یا کوئی علامت نہیں ہوتی۔

اہم بات یہ ہے کہ حمل کی بہت سی علامات ماہواری سے پہلے کی علامات سے ملتی جلتی ہیں، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ یقین کے ساتھ جاننے کے لیے گھریلو حمل ٹیسٹ یا ڈاکٹری معائنہ ضروری ہے۔

یاد رہے: یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی طبی فیصلے سے پہلے اپنی ماہرِ امراضِ نسواں سے مشورہ ضرور کریں۔

حمل کی علامات کب شروع ہوتی ہیں؟

حمل کی علامات عموماً آخری ماہواری کے 4 سے 6 ہفتے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ علامات جیسے تھکاوٹ اور چھاتیوں میں نرمی فرٹیلائزیشن کے صرف 1 سے 2 ہفتوں میں ہی شروع ہو سکتی ہیں۔ البتہ ماہواری کا رکنا — جو سب سے واضح علامت ہے — حاملہ ہونے کے تقریباً 4 ہفتے بعد محسوس ہوتا ہے۔

ڈاکٹر حمل کا آغاز آپ کی آخری ماہواری کے پہلے دن سے شمار کرتے ہیں، چاہے اس وقت حمل نہ بھی ٹھہرا ہو۔ اسی لیے حمل کی مدت 40 ہفتے مانی جاتی ہے۔

Female Fertility Course

حمل کی 20 ابتدائی علامات — تفصیل سے

  1. ماہواری کا رکنا

حاملہ ہونے کی سب سے واضح اور مشہور علامت ماہواری کا رک جانا ہے۔ جب انڈا بچہ دانی کی دیوار میں پیوست ہو جاتا ہے تو جسم HCG ہارمون بنانا شروع کر دیتا ہے جو ماہواری کو روک دیتا ہے۔ تاہم بعض خواتین کو تھوڑا ہلکا خون آ سکتا ہے جسے امپلانٹیشن بلیڈنگ کہتے ہیں — یہ عام ماہواری سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔

  1. صبح کی متلی اور قے

حمل کی سب سے مشہور علامت صبح کی متلی ہے۔ یہ عام طور پر 4 سے 6 ہفتے میں شروع ہوتی ہے اور پہلی سہ ماہی میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ “صبح کی بیماری” نام گمراہ کن ہے کیونکہ یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ HCG اور ایسٹروجن ہارمون کی اچانک بڑھوتری ہے۔

  1. چھاتیوں میں نرمی اور درد

حمل کے ابتدائی ہفتوں میں چھاتیاں بھاری، نرم اور حساس ہو جاتی ہیں۔ نپل کے ارد گرد کی جلد کا رنگ گہرا ہو سکتا ہے اور اس کا سائز بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہ تبدیلیاں پروجیسٹرون اور ایسٹروجن کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

  1. شدید تھکاوٹ

حمل کے ابتدائی دنوں میں بغیر کسی خاص وجہ کے انتہائی تھکاوٹ محسوس ہونا بہت عام ہے۔ پروجیسٹرون ہارمون کی بڑھتی ہوئی مقدار آپ کو نیند اور سستی کا احساس دلاتی ہے۔ اس کے علاوہ جسم نال بنانے میں بہت زیادہ توانائی خرچ کرتا ہے۔

  1. بار بار پیشاب آنا

حمل کے دوران گردے معمول سے زیادہ کام کرتے ہیں کیونکہ جسم میں خون کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مثانے میں جلدی پیشاب بھر جاتا ہے اور بار بار باتھ روم جانا پڑتا ہے — خاص طور پر رات کو۔

  1. موڈ میں تبدیلی

ہارمونز کی اچانک تبدیلیوں کی وجہ سے حاملہ خواتین اکثر جذباتی، چڑچڑی، یا بغیر وجہ رونے لگتی ہیں۔ کبھی بہت خوش تو کبھی اداس — یہ موڈ سوئنگ حمل کی بہت عام علامت ہے اور عموماً دوسری سہ ماہی میں بہتر ہو جاتی ہے۔

  1. کھانے کی خواہشات یا نفرت

کچھ خواتین کو مخصوص کھانوں کی شدید خواہش ہوتی ہے جبکہ کچھ کو اپنی پسندیدہ چیزوں سے بھی نفرت ہو جاتی ہے۔ بو کی حساسیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کھانے کی خوشبو تک متلی پیدا کر سکتی ہے۔ یہ ہارمونل تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

  1. پیٹ پھولنا اور قبض

 

پروجیسٹرون نظامِ ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے جس کی وجہ سے قبض اور گیس کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ پیٹ بھرا بھرا اور پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے جو ماہواری سے پہلے کی علامات جیسا ہو سکتا ہے۔

Female Fertility Course

  1. ہلکا خون یا دھبہ

فرٹیلائزیشن کے 10 سے 14 دن بعد جب انڈا بچہ دانی کی دیوار سے جڑتا ہے تو ہلکا گلابی یا بھورا دھبہ آ سکتا ہے۔ یہ عام ماہواری سے بہت کم ہوتا ہے اور صرف 1 سے 2 دن رہتا ہے۔ بہت سی خواتین اسے ہلکی ماہواری سمجھ لیتی ہیں۔

  1. منہ میں عجیب ذائقہ

بعض خواتین کو منہ میں دھاتی ذائقہ محسوس ہوتا ہے جو ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے طبی زبان میں Dysgeusia کہتے ہیں اور یہ پہلی سہ ماہی میں بہت عام ہے۔

  1. سینے میں جلن

ہارمونز معدے اور غذائی نالی کے درمیان والی پٹھوں کو ڈھیلا کر دیتے ہیں جس سے معدے کا تیزاب اوپر آ سکتا ہے اور سینے میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔ یہ پورے حمل میں ہو سکتا ہے لیکن آخری مہینوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

  1. جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ

بیضہ خارج ہونے کے بعد جسم کا درجہ حرارت قدرے بڑھ جاتا ہے اور حمل کے دوران یہ بلند رہتا ہے۔ اگر آپ اپنا بنیادی درجہ حرارت ناپ رہی ہیں اور یہ 18 دن سے زیادہ بلند رہے تو یہ حمل کا مضبوط اشارہ ہو سکتا ہے۔

  1. دل کی دھڑکن تیز ہونا

حمل کے 8 سے 10 ہفتوں میں دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو سکتا ہے کیونکہ جسم میں خون کا حجم بڑھتا ہے اور دل کو زیادہ پمپ کرنا پڑتا ہے۔ ہلکی دھڑکن عام ہے لیکن شدید بے چینی ہو تو ڈاکٹر سے ملیں۔

  1. چکر آنا یا بلڈ پریشر کم ہونا

ابتدائی حمل میں بلڈ پریشر اکثر تھوڑا گر جاتا ہے جس کی وجہ سے اچانک کھڑے ہونے پر چکر آ سکتا ہے۔ خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں جو دماغ تک خون کی فراہمی عارضی طور پر کم کر دیتی ہیں۔

Special Fertility Course

  1. ناک بند رہنا

حمل کے دوران خون کا حجم بڑھنے اور ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے ناک کی اندرونی جھلیاں سوج جاتی ہیں۔ اس سے ناک بند اور ناک سے ہلکا خون آنے کی شکایت ہو سکتی ہے جسے Pregnancy Rhinitis کہتے ہیں۔

  1. جلد میں تبدیلیاں اور مہاسے

ہارمونل تبدیلیاں چہرے کی جلد کو متاثر کرتی ہیں۔ کچھ خواتین کا چہرہ چمک دار ہو جاتا ہے جسے Pregnancy Glow کہتے ہیں جبکہ کچھ کو مہاسوں کی شکایت ہوتی ہے۔ ابتدائی ہفتوں میں یہ تبدیلی ایک ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔

  1. کمر کے نچلے حصے میں درد

حمل کے ابتدائی دنوں میں بچہ دانی کا پھیلاؤ شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے اور پیٹ کے نچلے حصے میں ہلکا کھنچاؤ یا درد محسوس ہوتا ہے۔ یہ درد عام طور پر ماہواری کے درد جیسا ہوتا ہے۔

  1. نیند میں تبدیلی

پروجیسٹرون کی بڑھتی ہوئی مقدار نیند لاتی ہے لیکن بار بار پیشاب، پیٹ کی تکلیف یا موڈ کے مسائل نیند خراب بھی کر سکتے ہیں۔ بعض خواتین کو بہت گہری نیند آنے لگتی ہے یا عجیب خواب آتے ہیں۔

Special Fertility Course

  1. پیٹ کے نچلے حصے میں کھنچاؤ

جب بلاسٹوسسٹ بچہ دانی کی دیوار میں پیوست ہوتا ہے تو پیٹ کے نچلے حصے میں ہلکا کھنچاؤ یا چبھن محسوس ہو سکتی ہے۔ بہت سی خواتین اسے ماہواری کا آغاز سمجھ لیتی ہیں۔

  1. چھاتیوں اور پیٹ پر نیلی رگوں کا نظر آنا

حمل کے دوران جسم میں خون کا بہاؤ بڑھنے کی وجہ سے رگیں زیادہ نظر آنے لگتی ہیں۔ خاص طور پر چھاتیوں اور پیٹ پر نیلی رگوں کا جال واضح ہو جاتا ہے — یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم بچے کی پرورش کے لیے زیادہ خون فراہم کر رہا ہے۔

گھر پر حمل ٹیسٹ کیسے کریں؟

گھریلو حمل ٹیسٹ کٹ فارمیسی سے آسانی سے ملتی ہے۔ یہ آپ کے پیشاب میں HCG ہارمون کا پتہ لگاتی ہے جو صرف حمل کے دوران بنتا ہے۔ بہترین نتائج کے لیے ماہواری رکنے کے پہلے دن صبح کے پہلے پیشاب سے ٹیسٹ کریں کیونکہ اس وقت HCG کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ٹیسٹ میں پیشاب کے چند قطرے ڈالیں اور 3 سے 5 منٹ انتظار کریں۔ دو لکیریں مثبت نتیجہ ہیں اور ایک لکیر منفی۔ مثبت نتیجہ آنے پر فوری ڈاکٹر سے ملیں۔

ڈاکٹر سے کب ملیں؟

اگر آپ کا حمل ٹیسٹ مثبت آئے تو جتنا جلد ممکن ہو ماہرِ امراضِ نسواں سے ملاقات کریں۔ قبل از پیدائش نگہداشت جتنی جلدی شروع ہو، ماں اور بچے دونوں کے لیے اتنا بہتر ہے۔ اس کے علاوہ فوری ڈاکٹری مشورہ لیں اگر آپ کو شدید پیٹ درد ہو، بہت زیادہ خون آئے، تیز بخار ہو، پیشاب کرنے میں جلن یا تکلیف ہو، یا آپ بے ہوش ہو جائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

حمل کی علامات ماہواری کی علامات سے کیسے مختلف ہیں؟

ماہواری سے پہلے بھی چھاتیوں میں درد، پیٹ پھولنا اور موڈ میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ حمل کی علامات زیادہ شدید اور طویل مدت تک رہتی ہیں، ماہواری نہیں آتی، اور متلی کے ساتھ کھانوں سے خاص نفرت یا خواہش بھی ہوتی ہے۔ یقینی فرق صرف حمل ٹیسٹ سے ہی ہو سکتا ہے۔

کیا حمل کے بغیر بھی یہ علامات ہو سکتی ہیں؟

جی ہاں، یہ تمام علامات دوسری وجوہات سے بھی ہو سکتی ہیں جیسے ہارمونل عدم توازن، تھائیرائیڈ کا مسئلہ، یا تناؤ۔ اسی لیے صرف علامات پر انحصار نہ کریں اور ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

کتنی جلدی گھریلو حمل ٹیسٹ مثبت آ سکتا ہے؟

زیادہ تر گھریلو ٹیسٹ ماہواری رکنے کے پہلے دن سے قابلِ اعتماد نتیجہ دیتے ہیں۔ کچھ حساس ٹیسٹ ماہواری رکنے سے 4 سے 5 دن پہلے بھی مثبت آ سکتے ہیں لیکن اتنی جلدی تصدیق کم قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔

کیا حمل کی کوئی علامت نہ ہونا نارمل ہے؟

جی بالکل۔ کچھ خواتین پہلی سہ ماہی میں بہت کم یا کوئی علامت محسوس نہیں کرتیں۔ علامات نہ ہونا حمل میں کسی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتا — ہر عورت کا جسم مختلف ہے۔

Special Fertility Course

صبح کی متلی سے کیسے نجات حاصل کریں؟

تھوڑا تھوڑا بار بار کھائیں، خالی پیٹ نہ رہیں، ادرک کی چائے یا بسکٹ مفید ہے، زیادہ بو والی جگہوں سے دور رہیں اور کافی پانی پئیں۔ اگر متلی اور قے بہت شدید ہو تو ڈاکٹر سے ملیں۔

طبی دستبرداری: اس مضمون میں فراہم کردہ معلومات صرف عام آگاہی کے لیے ہیں اور کسی بھی صورت میں طبی مشورے کا متبادل نہیں ہیں۔ کوئی بھی طبی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ امراضِ نسواں سے لازمی مشورہ کریں۔

Shop Fertility support for men and woman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *